
کراچی —— حکومتِ سندھ اور امریکی محکمۂ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے مئکگورن-ڈول انٹرنیشنل فوڈ فارایجوکیشن اینڈ چائلڈ نیوٹریشن پروگرام نے سندھ اسکول میلز پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت امریکی فراہم کردہ اشیائے خورونوش کے ذریعے سندھ بھر کے تقریباً 1,300 پرائمری اسکولوں میں 200,000 سے زائد طلبہ کو روزانہ تازہ تیارشدہ مفت کھانا اور گھر لے جانے کے لیے راشن دیا جائے گا۔
امریکی محکمۂ زراعت کی جانب سے 22 ارب 40 کروڑ روپے ( 80 ملین امریکی ڈالر) کی مالی معاونت کے ساتھ یہ پروگرام سیو دی چلڈرن اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے زیرِ انتظام صوبہ سندھ کے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ اور فوڈ و ہیلتھ ڈیپارٹمنٹس کے تعاون سے چلایا جائے گا۔ اس کا مقصد بچوں کی حاضری، داخلہ اورابتدائی تعلیمی صلاحیتوں میں بہتری لانا ہے۔
اسکولوں میں کھانوں کی فراہمی کا یہ منصوبہ اب تک علاقائی سطح پر غذائیت و تعلیم میں سب سے بڑی سرمایہ کاری میں سے ایک ہے اور سندھ میں غذائیت اور تعلیمی نتائج کو مزید موثر بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔ حالیہ سیلابوں اور اقتصادی مشکلات کے باعث بچوں میں غذائی کمی بڑھی ہے، اور یہ منصوبہ ان کی اسکول میں حاضری کو یقینی بنانے اورانکے تعلیمی نتائج بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس پروگرام کے موثر و پائیدار نتائج کو یقینی بنانے اوراسکی ادارتی سطح پر قبولیت کے حصول کے لیئے اسکولوں اور ضلعی سطح پرعملہ کی تربیت اوراستعداد بڑھانے میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ، پرنسپلز، اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین اور ضلعی افسران کو فوڈ سیفٹی، غذائیت، اور مانیٹرنگ کی تربیت دی جائے گی۔ ساتھ ہی منتخب اسکولوں میں واٹر، سینی ٹیشن اور ہائجین (واش) کے بنیادی سہولیات کی بحالی بھی ممکن بنائی جائے گی، تاکہ بچوں کو صاف اور محفوظ ماحول میں کھانا فراہم کیا جا سکے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل چارلس گڈمن نے کہا کہ ہمیں فخرہے کہ امریکی کسان اور زرعی پیداوار فراہم کندہ پاکستان کے بچوں کی مدد کر رہے ہیں، اور معیاری گندم، دالیں اور خوردنی تیل فراہم کر کے اگلے چھ سالوں میں 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کو کھانا اور راشن مہیا کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ، “مئکگورن-ڈول فوڈ فارایجوکیشن پروگرام مشترکہ خوشحالی کے لیے حقیقی شراکت داری کی علامت ہے۔ یہ بچوں، دونوں ممالک کے کسانوں، اور پاکستان و امریکہ کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔
وزیرِ تعلیم سندھ نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم قوموں کی ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور یہ شراکت داری ہر بچے کو سندھ میں صحتمند اور روشن مستقبل دینے کے عہد کو پورا کرتی ہے۔
سیو دی چلڈرن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر محمد خرم گوندل نے کہا ک پاکستان میں ‘بھوک’ بچوں کی تعلیم کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ قدم اس بات کا پختہ عزم ہے کہ سندھ کے بچے باقاعدگی سے اسکول آئیں، کلاس میں توجہ دیں اور صحت مند انداز سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ، مئکگورن-ڈول پروگرام کے تعاون سے سیو دی چلڈرن، حکومتِ سندھ اور شراکت دار اسکولوں کو اس قابل بنانے کے لیئے پر عزم ہیں، تا کہ بچے غذائیت سے بھرپور، محفوظ اور معاون ماحول میں تعلیم حاصل سکیں اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوں ۔
ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر اور نمائندہ کوکواوشئییما نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اسکولوں میں خوراک فراہم کرنے کے ایسے منصوبے بچوں کی تعلیم میں جامع تبدیلی لانے کے ثابت شدہ اقدام ہیں۔ یہ صحت مند غذائیں فراہم کرتے ہیں، حاضری یقینی بناتے ہیں، اور سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ کے ساتھ کے اشتراک سے ایک اسکول فیڈنگ سسٹم ہر بچے کو سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنی مکمل صلاحیت تک پہنچنے کا موقع فراہم کرے گا۔
اعلیٰ سطح پر شفافیت کو یقینی بنانے اور صوبائی سطح پر اس منصوبے کو اپنانے کے لیئے، اس پروگرام کے نفاذ کی نگرانی ایک مشترکہ اسٹیرنگ کمیٹی کرے گی، جس میں حکومتِ سندھ، ڈبلیو ایف پی، سیو دی چلڈرن اور دیگر قومی شراکت دار شامل ہوں گے۔ ان سب کی مشترکہ کوششوں سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ امریکی گندم، خوردنی تیل اور دالیں — جو امریکا کے کھیتوں سے درآمد کی جائیں — اور اسکے ساتھ سندھ کے مقامی وعلاقائی کسانوں سے تازہ پھل و سبزیاں جوکہ مقامی منڈیوں سے خریدی جائیں ان کی اسکولوں تک رسائی کویقینی بنایا جاسکے، جس سے طلبہ کو مطلوبہ خوراک و غذائیت ملے— جس سے نہ فقط مقامی کسانوں کو بلکہ صوبائی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔




