کراچی (ہیلتھ رپورٹر)پاکستان نے طبی شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا، سول اسپتال کراچی سے متصل ٹراما سینٹر کراچی میں ملک کا پہلا جدید ٹیکنالوجی بیسڈ ویسکولر سوٹ (وی ٹیک) قائم کر دیا گیا ہے، جو دل، دماغ اور خون کی نالیوں سے متعلق پیچیدہ امراض کے جدید، محفوظ اور بروقت علاج میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے مریضوں کے ہاتھ یا ٹانگیں کاٹنے کی نوبت نہیں آئے گی۔اس جدید ویسکولر سوٹ کا باقاعدہ افتتاح سندھ کی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ عوام کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید طبی ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وی-ٹیک بیسڈ ویسکولر سوٹ جیسے منصوبے صحت کے شعبے میں ایک مثبت پیش رفت ہیں، جو پیچیدہ امراض کے علاج میں سہولت پیدا کریں گے۔ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ دل، دماغ اور خون کی نالیوں سے متعلق بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جن کے بروقت اور درست علاج کے لیے جدید انفراسٹرکچر ناگزیر ہے۔ ویسکولر سوٹ کے ذریعے جدید امیجنگ، کم رسک طریقۂ علاج اور کم وقت میں بہتر تشخیص ممکن ہو سکے گی، جس سے مریضوں کی جان اور اعضا کو بچانے میں مدد ملے گی۔وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچو نے کہا کہ آج کی کامیابی ہمارے ماہر ڈاکٹرز کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اسے ممکن بنایا۔ہم اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جہاں مریضوں کے ہاتھ یا ٹانگیں کاٹنے کی نوبت نہ آئے۔السر اور شوگر ایسی بیماریاں ہیں جن میں اکثر اعضاء کاٹنے پڑتے ہیں، تاہم جدید وسکیولر سرجری کے بعد اب اس میں واضح کمی آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس جدید سہولت کے قیام سے نہ صرف مریضوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے میں بھی نئی راہیں کھلیں گی۔ ویسکولر سرجنز اور انٹروینشنل اسپیشلسٹس کو عالمی معیار کی تربیت کے مواقع میسر آئیں گے، جس سے پاکستان میں جدید علاج کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بیرونِ ملک جانے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔تقریب میں ماہر انٹروینشنل ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر صابر میمن سمیت دیگر سینئر ڈاکٹرز، طبی ماہرین اور متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔ شرکا کو ویسکولر سوٹ کی تکنیکی خصوصیات، جدید آلات اور علاج کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا گیا، جن کے ذریعے فالج، اینیوریزم، شریانوں کی بندش اور دیگر ویسکولر بیماریوں کا علاج زیادہ مؤثر انداز میں ممکن بنایا گیا ہے۔ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ حکومتِ سندھ سرکاری سطح پر صحت کے شعبے میں جدت، استعداد سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے تاکہ عام شہریوں کو بھی وہی سہولیات میسر آ سکیں جو ماضی میں صرف بڑے نجی یا بیرونِ ملک اسپتالوں تک محدود تھیں۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچو نے کہا کہ آج کی کامیابی ہمارے ماہر ڈاکٹرز کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اسے ممکن بنایا۔ہم اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جہاں مریضوں کے ہاتھ یا ٹانگیں کاٹنے کی نوبت نہ آئے۔السر اور شوگر ایسی بیماریاں ہیں جن میں اکثر اعضاء کاٹنے پڑتے ہیں، تاہم جدید وسکیولر سرجری کے بعد اب اس میں واضح کمی آئے گی۔ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ جناح اسپتال میں بے ہوشی کے ماہر ڈاکٹرز کی کمی ہے،اسی وجہ سے سول اسپتال میں ٹریننگ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے تاکہ اس خلا جلد از جلد پورا کیا جا سکے۔ڈاگ بائیٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی لوکل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے، کراچی کی آبادی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔مریضوں کو طویل تاریخیں ملنے سے بچانے کے لیے دو مزید ٹراما سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔بہت جلد آپ کو شہر میں دو بڑے اور جدید ٹراما سینٹرز نظر آئیں گے، جس سے علاج کی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔





