
کراچی(11 اگست 2026)
جامعہ کراچی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹرمحمد طفیل جوکھیونے کہا کہ جامعہ کراچی کے سابق طلبہ دنیا بھر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو مادرِ علمی کے لیے باعثِ فخر ہے۔ جامعہ کراچی کو 75 سالہ علمی، تحقیقی اور تعلیمی تجربہ حاصل ہے اور اس عرصے کے دوران اس کے فارغ التحصیل طلبہ نے ملک و بیرونِ ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی 1977ء تک شہر کی واحد جامعہ تھی جہاں سے انجینئرز، ڈاکٹرز، وکلاء، کاروباری شخصیات اور دیگر شعبہ جات کے ماہرین نے تعلیم حاصل کی۔ اس اعتبار سے جامعہ کراچی نے کراچی کی علمی، پیشہ ورانہ اور معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم جامعہ کراچی کے سابق طلبہ اپنی مادرِ علمی کی ترقی اور جامعہ کی سابق طلبہ برادری کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ انہیں واضح طور پر بتایا جائے کہ ان کی معاونت کس شعبے اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوگی۔ اسی طرح انہیں یہ یقین دہانی بھی کرائی جائے کہ ان کی فراہم کردہ معاونت شفاف، مؤثر اور درست سمت میں استعمال ہورہی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نےمنگل کے روز شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں اورنج ٹری فائونڈیشن کی معاونت سے قائم کی جانے والی ڈیجیٹل لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر طفیل نے مزید کہا کہ اگر سابق طلبہ کو مناسب معلومات، شفافیت اور اعتماد فراہم کیا جائے تو بڑی تعداد میں افراد اپنی مادرِ علمی کو کچھ واپس لوٹانے اور اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے آگے آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق جامعات کی معاونت دراصل ملک کی آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت میں سرمایہ کاری ہے، اس لیے اس مقصد کے لیے واضح منصوبہ بندی اور مؤثر پلیٹ فارم کی فراہمی ضروری ہے۔
ڈاکٹر طفیل نے سی ای اواورنج ٹری فائونڈیشن(اوٹی ایف)عمر متین اللہ والا کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طلبہ کے لیے براہِ راست مالی معاونت فراہم کی ہے۔ انہوں نے طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس نوعیت کی کاوشوں کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاونت کے اس عمل کو شفاف اور مؤثر انداز میں جاری رکھنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔محض اچھی تجویز پیش کرنا کافی نہیں بلکہ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب طلبہ اور محققین اپنی کارکردگی کے ذریعے ان توقعات پر پورا اتریں جو ان سے وابستہ کی گئی ہیں۔
ڈیجیٹل لیب طلبہ کی عملی تربیت، تحقیق اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ علمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ ترقی کے ساتھ اخلاقی اقدار کو بھی مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی اقدار، ثقافتی روایات اور اخلاقی اصول کسی بھی فرد کی شخصیت اور پیشہ ورانہ کردار کی بنیاد ہیں، جن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم اس کا استعمال اخلاقی اصولوں، انسانی اقدار اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے دائرۂ کار میں رہ کر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں دیانت، ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔
اورنج ٹری فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر متین اللہ والا نے کہا ہے کہ طلبہ اپنی تخلیقی سوچ، صلاحیتوں اور نئے آئیڈیاز کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آپ کو ثابت کریں، میدان اور مواقع ان کے سامنے ہیں جبکہ انہیں ضروری مواقع اور معاونت فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آئیڈیاز پیش کریں اور اپنی صلاحیتوں کو عملی طور پر منوانے کی کوشش کریں۔ اگر طلبہ اپنی محنت، قابلیت اور تخلیقی صلاحیتوں سے خود کو ثابت کرتے ہیں تو مستقبل میں انہیں مزید اسکالرشپس اور معاونت فراہم کی جائے گی۔
عمر متین اللہ والا نے کہا کہ شعبہ ابلاغِ عامہ، جامعہ کراچی کے طلبہ کو فراہم کی جانے والی اسکالرشپس محض ایک آغاز ہیں۔ طلبہ اپنی صلاحیتوں کا مسلسل مظاہرہ کرتے رہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے بھرپور مواقع اور ہر ممکن تعاون فراہم کرتے رہیں گے۔
رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم، جامعہ کراچی، پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا عصرِ حاضر کی اہم ضرورت بن چکا ہے، لہٰذا جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع سے روشناس کرانے کے لیے تعلیمی اداروں اور شعبہ جات کو مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
صدرِ شعبہ ابلاغِ عامہ، جامعہ کراچی، پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ محمود نے بتایا کہ اورنج ٹری فاؤنڈیشن کی جانب سے شعبہ ابلاغِ عامہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل لیب کے قیام کے لیے 25 جدید لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے ہیں، جن سے بالخصوص سالِ آخر کے طلبہ استفادہ کرسکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اورنج ٹری فاؤنڈیشن کی جانب سے گزشتہ دو برس کے دوران شعبہ ابلاغِ عامہ کے 70 سے زائد طلبہ کو تعلیمی وظائف فراہم کیے جاچکے ہیں۔ علاوہ ازیں شعبہ میں زیرِ تعلیم ایسے طلبہ جو کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں، انہیں نہ صرف مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے بلکہ ان کے علاج و معالجے، سفری سہولیات اور دیگر متعلقہ اخراجات بھی فاؤنڈیشن کی جانب سے برداشت کیے جارہے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ محمود نے کہا کہ اورنج ٹری فاؤنڈیشن کی جانب سے جامعہ کراچی کے طلبہ کے لیے تعلیمی معاونت، جدید سہولیات کی فراہمی اور مستحق طلبہ کی کفالت کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں، جو جامعہ کراچی اور اس کے طلبہ کے ساتھ فاؤنڈیشن کی گہری وابستگی، خلوص اور فلاحی جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔




