
کراچی – 16 اپریل 2026: سید محمد طهٰ نے 15 اپریل 2026 سے کے-الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ باضابطہ طور پر سنبھال لیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تجربے کے حامل، سید طهٰ پاکستان کے توانائی کے شعبے کے ایک اہم موڑ پر اس ادارے میں واپس آئے ہیں۔ وہ ایک ترقی پسند سربراہ کے طور پر جانے جاتے ہیں جو پیچیدہ ریگولیٹری تبدیلیوں سے نمٹ کر ادارے کو بہترین آپریشنل کارکردگی اور مالیاتی بحالی کی طرف گامزن کرتے ہیں۔
عہدہ سنبھالنے پر، سید طهٰ نے کہا، “کے-الیکٹرک پاکستان کی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس ادارے کی قیادت ایسے وقت میں کرنا جب پورا شعبہ بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہو، ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اگرچہ چیلنجز موجود ہیں، لیکن اپنے صارفین، شیئر ہولڈرز، اور قومی معیشت کے لیے جدت لانے کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہم کراچی کی ترقی کو توانائی فراہم کرنے کے لیے بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی اور مستقبل کے لیے تیار ٹیکنالوجیز پر توجہ دیں گے۔”
کے-الیکٹرک میں واپسی سے قبل، سید طهٰ، فروری 2020 سے، پاکستان اسٹیٹ آئل کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے ایک تاریخی مالی بحالی کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں توانائی کے اس ادارے کو اپنے دور میں مالی نقصان سے نکال کر مالی سال 2025 تک کمپنی کی آمدنی کو 3.3 کھرب روپے اور ارننگس پر شیئر (Earnings Per Share) 35.03 روپے تک پہنچایا۔ کمپنی کے ریٹیل نیٹ ورک میں جدت اور کلین انرجی (clean energy) اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ متعارف کروانے کی بنیاد رکھنے کا کریڈٹ بھی انہیں جاتا ہے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر واپسی سے قبل سید طهٰ بطور چیف ڈسٹری بیوشن آفیسر فائز تھےجہاں وہ 1.9 ارب امریکی ڈالر کا ریونیو مینیج کرتے تھے۔ ان کے بین الاقوامی تجربہ میں اویسس انرجی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دینا بھی شامل ہے، جہاں انہوں نے نائیجیریا کی پورٹ ہارکورٹ الیکٹرکسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی (PHED) کے لیے انفراسٹرکچر کی جدید کاری کی قیادت کی۔
ان کے ابتدائی کیریئر میں شیل، کیلٹیکس (شیورون)، اور پاکستان اسٹیل ملز میں قیادت کے عہدے شامل ہیں۔ سید طهٰ ایک پروفیشنل انجینئر ہیں اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن، کراچی سے فنانس میں ایم بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں۔




