
لانڈھی(پ ر) چیئرمین لانڈھی ٹاؤن عبدالجمیل خان نے مالی سال 2026-27 کا 3 ارب 74 کروڑ 9 لاکھ 14 ہزار 897 روپے کا بجٹ ٹاؤن کونسل کے اجلاس میں پیش کردیا، جسے اراکینِ کونسل نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔
بجٹ تقریر کرتے ہوئے چیئرمین عبدالجمیل خان نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود لانڈھی ٹاؤن میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 600 پیور بلاک گلیوں کی تعمیر کے منصوبے کا 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ باقی کام بھی مرحلہ وار جلد مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لانڈھی ٹاؤن کے فنڈز میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور OZT شیئر میں کسی قسم کی کٹوتی نہ کی جائے بلکہ اسے بڑھایا جائے تاکہ شہریوں کو بہتر بلدیاتی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
چیئرمین نے مزید مطالبہ کیا کہ واٹر کارپوریشن کو پابند بنایا جائے تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لانڈھی میں بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث ہے، اس لیے ان مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔
انہوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لانڈھی میں کچرے کا مسئلہ بدستور سنگین ہے۔ اگر یہ محکمہ ٹاؤن اور یونین کونسلوں کے ماتحت ہوتا تو صفائی کے نظام کو کہیں زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا تھا۔ اس کے باوجود لانڈھی ٹاؤن اپنی استطاعت کے مطابق متعلقہ اداروں سے تعاون لے کر شہری مسائل کے حل کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
چیئرمین عبدالجمیل خان نے بتایا کہ بجٹ میں مختلف حکومتی ذرائع سے آمدنی کا تخمینہ 3 ارب 17 کروڑ 93 لاکھ 24 ہزار 694 روپے رکھا گیا ہے، جبکہ کل اخراجات کا تخمینہ 3 ارب 79 کروڑ 13 ہزار 472 روپے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کنٹی جنسی کی مد میں 22 کروڑ 52 لاکھ 65 ہزار روپے
ریپئر اینڈ مینٹیننس کے لیے 63 کروڑ 13 لاکھ روپے
ترقیاتی منصوبوں کے لیے 68 کروڑ 10 لاکھ روپے
جبکہ تنخواہوں کی مد میں 2 ارب 25 کروڑ 24 لاکھ 48 ہزار 472 روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بجٹ میں 4 کروڑ 90 لاکھ 98 ہزار 575 روپے فاضل (سرپلس) رکھے گئے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ٹاؤن کونسل کے اراکین نے چیئرمین کی جانب سے پیش کردہ بجٹ اور سفارشات کی ہاتھ اٹھا کر متفقہ طور پر منظوری دی۔




