
لاہور(پریس ریلیز،23 جون 2026) نیسلے پاکستان نے عالمی یومِ تحفظِ خوراک 2026 کے موقع پر پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، پاکستان سوسائٹی آف فوڈ سائنٹسٹس اینڈ ٹیکنالوجسٹس، جامعہ پنجاب کے شعبہ فوڈ سائنس اور نور انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اشتراک سے لاہور میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا، جس میں ملک میں خوراک کے تحفظ، معیار اور صارفین کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس سال عالمی یومِ تحفظِ خوراک کا موضوع “بوجھ سے حل تک، ہر جگہ محفوظ خوراک” رکھا گیا تھا۔ تقریب میں حکومتی نمائندوں، فوڈ ریگولیٹرز، تعلیمی ماہرین، صنعتی اداروں کے سربراہان، سائنس دانوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے نمایاں شرکا میں سیکریٹری پنجاب فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر کرن خورشید، نیسلے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیسن آوانسینا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان فوڈ اتھارٹیز کے اعلیٰ حکام، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے نمائندگان، پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اعجاز، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کی فیکلٹی آف فوڈ، نیوٹریشن اینڈ ہوم سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عمران پاشا، پاکستان سوسائٹی آف فوڈ سائنٹسٹس اینڈ ٹیکنالوجسٹس کے سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم، پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ کوآرڈینیشن منیر حسین چوپڑا، سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر احمد علی شیخ اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حبیب اللہ خان شامل تھے۔
تقریب کے دوران فوڈ سیفٹی، خوراک کے معیار، ٹریس ایبلٹی، غذائی معلومات کی لیبلنگ، صارفین کے حقِ معلومات اور محفوظ خوراک سے متعلق آگاہی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان میں خوراک کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو سائنسی بنیادوں پر قائم ہو، مقامی حالات سے ہم آہنگ ہو اور عام صارف کے لیے آسانی سے قابلِ فہم ہو۔
نیسلے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیسن آوانسینا نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیسلے میں فوڈ سیفٹی صرف ایک ترجیح نہیں بلکہ کاروبار، صارفین کے اعتماد اور ذمہ دارانہ کارپوریٹ کردار کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی صارفین کے ساتھ نیسلے کے عزم کا بنیادی حصہ ہے۔
سیکریٹری پنجاب فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ محفوظ خوراک کا مؤثر نظام اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب حکومت، ریگولیٹرز، تعلیمی ادارے اور صنعت قریبی تعاون کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ سیفٹی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ تحقیق اور سائنسی شواہد خوراک کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پالیسی سازی اور ریگولیٹری اقدامات کو مستند تحقیق اور مقامی ضروریات کے مطابق آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ کوآرڈینیشن منیر حسین چوپڑا نے کہا کہ مؤثر منصوبہ بندی، قوانین کے نفاذ اور عوامی آگاہی کے ذریعے ہی فوڈ ویلیو چین میں محفوظ خوراک کے اصولوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صارفین اور فوڈ بزنس آپریٹرز دونوں کو فوڈ سیفٹی کلچر کا حصہ بنانا ہوگا۔
سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر احمد علی شیخ نے کہا کہ بغیر پیک شدہ خوراک سے منسلک خطرات پر قابو پانے کے لیے قوانین کا مضبوط نفاذ، تکنیکی نگرانی اور فوڈ بزنس سے وابستہ افراد کی مسلسل تربیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کی آگاہی بھی محفوظ خوراک کے نظام کا اہم ستون ہے۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حبیب اللہ خان نے کہا کہ ملک بھر میں محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے صوبائی سطح پر استعداد کار میں اضافہ، ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعاون اور عملی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ سیفٹی کو قومی ترجیح کے طور پر اپنانا ہوگا۔
یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کی فیکلٹی آف فوڈ، نیوٹریشن اینڈ ہوم سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عمران پاشا نے تعلیمی اداروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں تحقیقی شواہد فراہم کرنے، ماہر افرادی قوت تیار کرنے اور محفوظ خوراک کے نظام کے لیے سائنسی بنیادوں پر قابلِ عمل حل پیش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
پاکستان سوسائٹی آف فوڈ سائنٹسٹس اینڈ ٹیکنالوجسٹس کے سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم نے کہا کہ پی ایس ایف ایس ٹی جیسے سائنسی اور پیشہ ورانہ پلیٹ فارمز اکیڈمیا، ریگولیٹرز، صنعت اور صارفین کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے تحفظ کے لیے باہمی اشتراک اور سائنسی مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب میں غذائی معلومات کی لیبلنگ کے نظام کو کوڈیکس اصولوں اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فرنٹ آف پیک نیوٹریشنل لیبلنگ کا نظام مکمل طور پر سائنسی شواہد پر مبنی، صارف دوست اور پاکستان کے عوامی صحت، سماجی اور معاشی حالات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
شرکا نے پاکستان سوسائٹی آف فوڈ سائنٹسٹس اینڈ ٹیکنالوجسٹس اور صنعتی تنظیموں کی جانب سے پیش کردہ فرنٹ آف پیک نیوٹریشنل لیبلنگ کے ماڈل کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ اس ماڈل میں بین الاقوامی مثالوں، خصوصاً یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے طریقہ کار سے رہنمائی لیتے ہوئے انتباہی علامات کے بجائے آسان، واضح اور قابلِ فہم اشاریوں کے ذریعے اہم غذائی اجزا کی معلومات صارفین تک پہنچانے پر زور دیا گیا ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں صارفین کو محفوظ، معیاری اور قابلِ اعتماد خوراک کی فراہمی کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں مضبوط، پائیدار اور مؤثر فوڈ سیفٹی کلچر کی تشکیل حکومت، ریگولیٹرز، صنعت، تعلیمی اداروں اور صارفین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔




